🤲 زکٰوۃ کیلکولیٹر پاکستان 2026 — 2.5 فیصد حساب

اپنی زکٰوۃ کا 2.5 فیصد حساب — نقد، سونے، چاندی اور قرضوں کے ساتھ۔

زکٰوۃ کل قابل زکٰوۃ اثاثوں کا 2.5 فیصد ہوتی ہے، بشرطیکہ وہ نصاب (52.5 تولہ چاندی یا 7.5 تولہ سونے کی قیمت) کے برابر یا زیادہ ہوں اور ان پر ایک قمری سال گزر گیا ہو۔ نیچے اپنے اثاثے اور قرضے لکھیں۔

جو رقم آپ کو واپس کرنی ہے
نصاب جانچ کے لیے — آج کا نرخ لکھیں
نوٹ: یہ بنیادی حساب ہے۔ مسائل (مثلاً قرضہ جو واپس ملنے کی امید نہ ہو) کے لیے کسی مفتی/عالم سے رجوع کریں۔

استعمال کیسے کریں؟

  1. اپنا نقد، سونے/چاندی کی قیمت اور تجارتی مال لکھیں۔
  2. جو قرض دینا ہے وہ گھٹائیں۔
  3. چاندی کا آج کا نرخ لکھیں تاکہ نصاب جانچ ہو — پھر حساب دبائیں۔

زکٰوۃ کی بنیادی شرائط

  • نصاب: 52.5 تولہ چاندی (612.36 گرام) یا 7.5 تولہ سونا (87.48 گرام) کی قیمت کے برابر مال۔
  • مدت: نصاب پر ایک قمری سال گزرنا۔
  • شرح: 2.5 فیصد (چالیسواں حصہ)۔
  • شامل: نقد، بینک بیلنس، سونا، چاندی، تجارتی مال، شیئرز اور وصول ہونے والے قرضے۔
  • گھٹائیں: فوری واجب الادا قرضے اور ادھار۔

ذاتی استعمال کی چیزیں (گھر، گاڑی، کپڑے، فرنیچر) زکٰوۃ میں شامل نہیں ہوتیں۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

زکٰوۃ کتنے فیصد ہوتی ہے؟
2.5 فیصد — یعنی کل قابل زکٰوۃ رقم کا چالیسواں حصہ۔
نصاب کیا ہے؟
52.5 تولہ چاندی یا 7.5 تولہ سونے کی موجودہ قیمت۔ اس سے کم مال پر زکٰوۃ واجب نہیں۔
کیا بینک میں پڑی تنخواہ پر زکٰوۃ ہے؟
جی ہاں، اگر وہ نصاب کو پہنچتی ہے اور اس پر ایک قمری سال گزر گیا ہو۔
قرضے زکٰوۃ سے منہا ہوتے ہیں؟
جی ہاں، جو رقم آپ کو فوراً واپس کرنی ہے وہ کل اثاثوں سے گھٹا دی جاتی ہے۔

آخری اپڈیٹ: 30 ستمبر 2026 · کیٹیگری: پاکستانی ٹولز